ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر بنگلور شہر اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل

کرناٹک کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر بنگلور شہر اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل

Sat, 24 Jun 2017 11:05:32    S.O. News Service

نئی دہلی؍بنگلورو:23؍جون(ایس او نیوز) بشمول راجدھانی بنگلور ملک کے 30؍شہروں کو مرکزی حکومت نے اسمارٹ سٹی کے طورپر ترقی دینے کے لئے منتخب کرلیاہے۔ مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات وینکیا نائیڈونے آج اس کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی اسمارٹ سٹی اسکیم کے تحت ان 30؍شہروں کو ترقی دی جائے گی۔ دو مرتبہ اسمارٹ شہروں کا انتخاب ہوا تھا تاہم بی بی ایم پی بنگلور اسمارٹ شہر کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکا۔ اب تیسری مرتبہ بنگلور کو بھی اسمارٹ سٹیوں کی فہرست میں شامل کرلیئے جانے سے بی بی ایم پی کا ایک دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہواہے۔ شہریان بنگلور کے لئے بھی یہ اعزاز ہے کہ ان کا شہر بہت جلد اسمارٹ سٹی بن جائے گا۔ اس اسکیم کیلئے ہڈکو نے 30؍شہروں کے لئے جملہ 57,393 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ حالانکہ اسمارٹ سٹی کی فہرست میں جملہ 90؍شہر شامل ہیں۔ ان تمام 90؍شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طورپر ترقی دی جائے گی۔ وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے شروع کئے گئے اس مشن کے تحت منتخب شہروں کو ترجیحاتی بنیادوں پر عوام کی توقعات اور امیدوں کے عین مطابق ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ آج اعلان کردہ 30؍شہروں کی فہرست درج ذیل ہے۔ تریوندرم ( کیرلا ) ، نیا رائے پور ( چھتیس گڑھ ) ، راجکوٹ ( گجرات ) ، امراوتی ( آندھرا پردیش ) ، پٹنہ ( بہار )، کریم گنج (تلنگانہ)، مظفر پور ( بہار ) ، پوڈوچیری( پوڈو چیری ) ، گاندھی نگر ( گجرات ) ، سری نگر ( جموں و کشمیر ) ، ساگر (مدھیہ پردیش ) ، کرنال ( ہریانہ ) ، ستنا (مدھیہ پردیش) بنگلورو ( کرناٹک ) ، شملہ ( ہماچل پردیش ) ، دہرہ دون (اترا کھنڈ )،تیروپ پور ( تملناڈو)، پمپری چنچ واڑ (مہاراشٹر)، بلاس پور (چھتیس گڑھ)، پاسی گھاٹ (اروناچل پردیشن )، جموں ( جموں و کشمیر )، داہود (گجرات )، ترون ویلی ( تملناڈو ) ، تھوتو کودی ( تمل ناڈو)، تروچراپلی( تمل ناڈو ) ، جھانسی (یوپی) آئزوال (میزورم ) ، الہ آباد ( اتر پردیش ) ، علی گڑھ (یوپی) اور گنگٹوک ( سکم ) شامل ہیں۔ مسٹر نائیڈو نے مطلع کیا کہ آج اعلان کردہ 30؍ شہروں کے لئے اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت 57,393؍ کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ہی کل90؍شہروں کو اسمارٹ سٹی بنانے کے لئے وضع کردہ رقم1,91,155 کروڑ روپئے ہو گئی ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ اسمارٹ سٹی مشن کے تحت باقی ماندہ10؍شہر ،20؍شہرو ں کے مقابلے میں سے منتخب کئے جائیں گے ، یہ ہیں ایٹا نگر (اروناچل پردیش )،بہار شریف ( بہار ) ، دیو ( دمن اور دیو)، سیواسا ( دادرا اور نگر حویلی ) ، کوراتّی ( لکش دیپ ) ، نوی ممبئی ، گریٹر ممبئی اور امراوتی (مہاراشٹر )، امپھال ( منی پور)،شیلانگ (میگھالیہ)، ڈنڈی گل اور ایروڈ (تملناڈو) بدھان نگر ، درگا پور اور ہلدیہ ( مغربی بنگال)، میرٹھ،رائے بریلی، غازی آباد ، سہارن پور اور رام پور (یوپی )۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ اسمارٹ سٹی کے طور پر مزید شہروں کے انتخاب کا کام وقت سے آگے چل رہاہے اور بقیہ شہروں میں جلد ہی نظر ثانی شدہ منصوبہ داخل کردیں گے۔ شہری ترقی کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیدو نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ سٹی کی تیاری متعلقہ شہری حکومتوں اور شہریوں کا ایک مشترکہ ویژن ہے اور اسے مرکزی حکومت کے ذریعہ تھوپا نہیں گیا ہے۔کچھ حلقوں کی طرف سے اس نکتہ چینی کو مسترد کرتے ہوئے کہ اسمارٹ سٹی مشن بڑے لوگوں کا مشن ہے ، انہوں نے آج یہاں شہری تبدیلی کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اسمارٹ سٹی مشن کے مقاصد اور ڈیزائن پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ نائیڈو نے واضح کیا کہ مشن کے رہنما خطوط رقبے کی بنیاد پر ترقی کیلئے مشن والے شہروں میں رقبے کے معاملے میں کوئی پابندی عائد نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل میں کمی، نامناسب منصوبہ بندی اور منصوبے کو نافذ کرنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے شرو ع میں نسبتاً چھوٹے علاقوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچے پر زور دیا جائے گا۔اس معاملے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں کمی کی وجہ سے مشن سٹی میں نسبتاً کم رقبے کے علاقے کو چنا جاتا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ اس معاملے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ ویلو ر میں ترقی کیلئے55؍فیصد کل آراضی کا تقریباً 55؍ فیصد اور کْل شہری علاقہ24؍فیصد ہوسکتا ہے۔ نائیڈو نے مزید کہا کہ یہ بات کہنا غلط ہوگا کہ اسمارٹ سٹی مشن کے تحت رقبے پر مبنی ترقی اور علاقے کے لوگوں میں وسیع اختلاف ہے البتہ اس سے کئی دیگر شہریوں کواور کچھ دیگر طریقوں سے فائدہ حاصل ہوگا۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اسمارٹ سٹی ڈیولپمنٹ سے کس طرح عام آدمی کو فائدہ ہوگا، مسٹر نائیڈو نے کہا کہ آج30؍اسمارٹ سٹی کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے25؍ نے قابل استطاعت ہاؤسنگ پراجیکٹوں کی تجویز رکھی ہے جس سے شہری غریبوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ کہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹوں محض ریئل اسٹیٹ کے پروجیکٹ نہیں ہیں ، جن کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔


Share: